شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی طرف سے پیش کردہ 'قرارداد امن'


اس وقت پوری دنیا کو بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص دہشت گردی کی لہر نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اِنتہا پسندی اور دہشت گردی کا عفریت پوری طرح چھایا ہوا ہے جس میں معصوم اور بے گناہ انسان آئے روز اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ دہشت گردی کی یہ لہر دراصل فتنہ خوارِج کا تسلسل ہے۔ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُمت کو اِنتہائی واضح الفاظ میں اِس کی تمام تفصیلات اور جزئیات سے رُوشناس فرمایا۔ ہم سب کو مل کر اِس فتنے کے خلاف متحد اور یکجا ہوکر جد و جہد کرنا ہوگی کیونکہ اِس لعنت کا تدارُک جتنی جلد ممکن ہوسکے، ملک و ملت کے حق میں اُتنا ہی بہتر ہوگا۔ انسانی معاشرے کی سلامتی اور بقا کا اِنحصار اِنتہا پسندی اور دہشت گردی سے کلیتاً چھٹکارا پانے ہی میں مضمر ہے۔ خالقِ کائنات تمام مخلوقات پر نہایت مہربان، بہت رحم فرمانے والا ہے اور نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سراپا رحمت اور مجسم شفقت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا گیا ہے۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ سراپا رحمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لیوا ایک دوسرے کا گلا کاٹتے پھریں؟ ایسے تمام اِقدامات سراسر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہیں اور کسی طور بھی دینِ اِسلام میں شمار نہیں ہوسکتے۔ بنا بریں اُمتِ محمدیہ کا ہر فرد اِعتدال، برداشت اور شفقت و رحمت کا پیکر ہونا چاہیے۔

اِس وقت اِنتہا پسندی اور دہشت گردی کے فتنہ سے چھٹکارا پانے کے لیے تمام اَمن پسند قوتوں کو متحد ہوکر مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ میدانِ عمل میں اُترنا ہوگا۔ یہ پوری دنیا کے تمام انسانوں کی مشترکہ ضرورت ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف عظیم عالم گیر کاوش کو کام یابی سے ہم کنار کرنے کے لیے درج ذیل قرار دادِ اَمن پیش کی جارہی ہے تاکہ ہر اَمن پسند فرد اِن نکات پر کاربند رہنے کا عہد اور مطالبہ کرے اور عالم اِنسانیت متحد ہوکر عالمی اَمن کی ضمانت مہیا کرے۔

  1. اِسلام محبت اور عدمِ تشدد کا دین ہے۔ یہ تمام اَقوام اور معاشروں کو اَمن اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے اور تمام بنی نوع اِنسان کے لیے باہمی اُخوت و محبت، تعظیم و تکریم اور باہمی عدل و اِنصاف کی تلقین کرتا ہے۔
     
  2. اِسلام خدمتِ اِنسانیت کا دین ہے۔ اس میں تمام اِنسانیت کی محبت اور خدمت کو لازمی قرار دیتے ہوئے عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ لہٰذا ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ اِسلام کی تعلیماتِ خدمت و محبت کو خوب فروغ دیا جائے۔
     
  3. ہم کسی بھی عنوان سے ہونے والی اِنتہا پسندی اور دہشت گردی کی صراحتاً مذمت اور مخالفت کرتے ہیں اور اسے کلیتاً مسترد کرتے ہیں۔
     
  4. تمام انسان برابر ہیں اور ہمیں سب کے ساتھ باہمی عزت و اِحترام، برداشت، بُردباری، عدل و اِنصاف اور رواداری کا رویہ اپنانا چاہیے کیونکہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق کسی گورے کو کالے پر یا کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے۔
  5. ہم ہر طرح کی نسل پرستی اور علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصب کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور معاشرتی مساوات اور سماجی اِنصاف کے لیے بھرپور جد و جہد کا عہد کرتے ہیں۔
     
  6. اِنسدادِ دہشت گردی کے لیے حکومتِ پاکستان کی طرف سے دیے گئے قومی ایکشن پلان (NAP) کی تمام شقیں نافذ العمل کی جائیں اور فوری طور پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اِجلاس میں اِنسدادِ دہشت گردی کی قومی پالیسی تشکیل دے کر اِبہام سے پاک قانون سازی کی جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ نیز دہشت گردی اور فتنہ خوارِج کے خاتمے تک آپریشن ’ضربِ عضب‘ کو جاری رکھا جائے۔
     
  7. دہشت گردوں کی حمایت میں بیان دینے اور اُنہیں کسی بھی طرح کی معاونت، تحفظ یا سہولت فراہم کرنے کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیتے ہوئے سخت سے سخت سزا مقرر کی جائے۔
     
  8. دہشت گردی کی جڑیں اِنتہا پسندی، فرقہ واریت اور تکفیریت میں چھپی ہوئی ہیں۔ مسلمانوں کے باہم کفر کے فتووں کے اِجرا پر قانوناً پابندی عائد کی جائے اور اس کے لیے کڑی سزا مقرر کی جائے۔
     
  9. دہشت گردی کی عدالتوں کے جج صاحبان کو دہشت گردوں کے خوف سے بے نیاز ہوکر اُسی جرات اور بے باکی سے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ جات سنانے چاہییں جس بے خوفی کا مظاہرہ وہ دیگر ملزمان کے خلاف فیصلہ جات کرتے وقت کرتے ہیں۔ سالوں یا مہینوں کی بجائے دنوں میں دہشت گردوں کو سزا دی جائے اور ان فیصلہ جات پر فوری عمل درآمد کرایا جائے۔
     
  10. فوجی عدالتوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ وہ تیزی کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ جات کرکے اِنسانیت کے قاتلوں کو جلد اَز جلد کیفرِ کردار تک پہنچا سکیں۔
     
  11. مذہبی مدارس کے نظام اور نصاب میں اِصلاحات کو یقینی بنایا جائے اور ان مدارس کے نصاب کے لیے متفقہ قومی مانیٹرنگ سیل (National Monitoring Cell) تشکیل دیا جائے جو تمام مدارس کے نصابات میں سے اِنتہا پسندانہ اَفکار کی نشان دہی کرنے اور اسے نکالنے کا ذمہ دار ہو۔ تمام مدارس اِس سیل سے اپنا نصاب review کروانے کے ذمہ دار ہوں اور منظور شدہ نصاب کے علاوہ کسی بھی دوسرے نصاب کے پڑھانے پر پابندی عائد ہو۔
     
  12. دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے فوری طور پر ’ضربِ عِلم‘ کا اِعلان کیا جائے اور ڈاکٹر طاہر القادری کا تیار کردہ ’فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب (Islamic Curriculum on Peace and Counter-Terrorism)‘ تعلیمی اداروں اور مدارس میں متعارف کرایا جائے۔
     
  13. حکومتی سطح پر ایک ایسا فورم تشکیل دیا جائے جو دینی مدارس، تنظیمات اور جماعتوں کو آنے والی بیرونی فنڈنگ کا بغور جائزہ لے۔ ان دینی مدارس، تنظیمات اور جماعتوں کو بیرونی ممالک سے مسلکی، جماعتی، تنظیمی یا اداراتی بنیادوں پر براہِ راست فنڈنگ پر پابندی عائد کی جائے۔ مغربی ممالک سے وظائف (scholarships) کی مد میں آنے والی اِمداد کی طرز پر اِسلامی ممالک سے آنے والی اِمداد کے لیے بھی قومی سطح پر ایک pool تشکیل دیا جائے جہاں سے مساوی طور پر فنڈز تقسیم ہوں۔
     
  14. فرقہ واریت، اِنتہا پسندی، تکفیریت اور دہشت گردی کے فروغ کا سبب بننے والے لٹریچر کی اِشاعت اور تقسیم پر کلیتاً پابندی عائد کی جائے۔
     
  15. جملہ مذاہب کے بانیان اور پیغمبرانِ کرام f کی گستاخی کو کسی طور پر آزادیِ اِظہار قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ تمام مذاہب کی تعلیمات اور جملہ عالمی قوانین کی رُو سے یہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے اِنسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
     
  16. غربت، معاشی ناہمواری، بے روزگاری اور ظلم و اِستحصال جیسے عناصر اِنتہا پسندی اور دہشت گردی کے فروغ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے مؤثر اور فوری اِقدامات کیے جائیں اور وہاں اچھی تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔
     
  17. اِنتہا پسندانہ نظریات و اَفکار رکھنے والی تنظیموں اور جماعتوں پر مکمل پابندی لگائی جائے اور اُنہیں نام بدل کر بھی کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اِنتہا پسندی کو فروغ دینے والے لیڈرز اور شخصیات کو ban کیا جائے اور اُنہیں کسی بھی طرح کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اِس سلسلے میں خصوصی قانون سازی کی جائے اور خلاف ورزی پر دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔
     
  18. حضور رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تاریخِ اِنسانی کے سب سے بڑے پیامبرِ اَمن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ اَمن کو ترجیح دی اور اسے ہی فروغ دیا اور حتی الامکان جنگ سے اِحتراز برتا کیونکہ جنگ کبھی مسائل کا حل نہیں رہی۔ ہم دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کے تمام سفاکانہ اِقدامات کے خاتمے اور پیغمبر اَمن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیماتِ اَمن کو عام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
     
  19. اِسلام میں جہاد اکبر کی تمام اَقسام پر اِنفرادی سطح پر زور دیا گیا ہے جب کہ جہاد بالقتال (lawful war) صرف ریاستی سطح پر تمام مطلوبہ شرائط کی تکمیل کے بعد ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اِنفرادی یا جماعتی سطح پر حربی کارروائیوں کی قطعی طور پر اِجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جہاد کے نام پر فساد بپا کرنے والے عناصر کو سختی سے کچلا جائے کیونکہ دین اِسلام کو بدنام کرنے والے کسی رِعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
     
  20. قرآن و سنت میں تمام غیر مسلموں کے ساتھ پُراَمن بقاے باہمی کی واضح تعلیمات موجود ہیں۔ لہٰذا ہم غیر مسلموں کے خلاف ہر طرح کے ظلم و زیادتی کی پُرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت تمام اَقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام وضع کرے تاکہ کمزور طبقات کے معاشی، سیاسی، سماجی اور قانونی اِستحصال کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔
     
  21. ہم دنیا کی تمام حکومتوں سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ نفرت، تشدد، مذہبی عدم رواداری اور قومیت پرستی کے خلاف اپنی اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔
     
  22. نیز یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر طرح کی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ہر سطح پر سرپرستی کا کلیتاً خاتمہ کیا جائے۔
     
  23. عالمی قوانین اور رویوں میں امتیازات ختم کرکے مساوات کو رائج کیا جائے۔
     
  24. ہم اِس قراردادِ اَمن کی تمام شقوں کے فوری نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں اور ان پر سختی سے کاربند رہنے کا عہد کرتے ہیں اور اَمن و محبت کے اِس عالم گیر مشن کا حصہ بننے کا اِعلان کرتے ہیں۔

تبصرہ